شيخ الاسلام قمبر شريف والے بابا سائیں رح آپ کا خاندان مبارک

شيخ الاسلام قمبر شريف والے بابا سائیں رح آپ کا خاندان مبارک

Inayat Hussaini
0


       مولاءِ کائنات، اميرالمؤمنين سيدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰه عنہ کی گیارہوں پشت میں سیدنا امام علی نقی کی اولاد میں سے کچھ افراد، اس میں ايشياء کی ایک ریاست ”بخارا“ (جو موجوده ازبکستان ميں ہے) میں رہاٸش پذیر ہوۓ۔ جہاں امام علی تقی کی آٹہویں پشت اور مولاءِ کائنات کی سترہویں پشت میں سے سيد ابوالمؤيّد علی بخاری کے فرزند سید جلال الدين ”جلال اللّٰه شير“ ”سرخ پوش بخاری“ اپنے خاندان کے کچھ احباب کيساتھ دين کی تبلیغ کے ارادہ سے سر زمين سندھ کی طرف رخ کيا، آپ پہلے بکہر (موجوده سکہر سے پہلے وہاں شہر تہا) ميں آکر تشريف فرما ہوۓ۔ بکہر میں کچھ وقت رہنے کے بعد ”اُچ شريف“ (جو اس دٶر ميں ميں تہا) کی طرف ہجرت فرماٸی۔

 

      اُچ شريف سے سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کا خاندان، ھند اور سندھ میں پہیلتا رہا، ان کی اولاد میں سے سيد ناصر الدين شاه بخاری کی اولاد چلتی چلتی آکر بہاگ ناڑی (وہ بہی اس وقت سندھ میں تہی) کے علاقہ میں آکر آباد ہوٸی، جہاں سيد تيار غازی کے خاندان والوں سے کی رشتیداریاں بہی ہوٸیں۔ وہاں رہتے اس خاندان کا سلسلہ بڑہا جن میں سے مصلحِ امت سيد يارمحمد شاه ثانی بخاری سندھ کے مختلف علاقاجات میں دین کی تبلیغ کرتے رہے، جن کے ھاتھ کٸی ھندو مسلمان ہوۓ۔ جن میں قمبر سے قریب میروخان شہر کے نزدیک ہی ایک گاٶں ڈرب چانڈیہ خان کے کچھ ھندو گھر مسلمان ہوۓ، جو ”ڪورڪو“ یعنی (کپڑا بنانے کا کام) کیا کرتے تہے۔ جن کی اولاد آج بہی آپ کی اولاد کے مریدین و مُحِب ہیں۔

بروايت ديدار حُسين شيخ میروخانی

”ميرے بڑے ھندو مذہب چہوڑ کر اس وقت ساٸیں کے ھاتھ پر مسلمان ہوۓ تہے اور پاکستان بننے کے وقت انہیں هندستان بہی نہیں جانے دیا۔ تہا اور اسی دٶر ميں انہی آسپاس کے علاقوں کے بہت سے مسلمان لوگ آپ کی مریدی میں شامل ہوچکے تہے۔

 

آگے چل کر گوٹھ ڈرب چانڈیہ خان کے نٸے مسلمان اپنے مرشد سید یار محمد شاه بخاری ثانی کو بھاگ ناڑی سے ہجرت کروا کر اپنے ساتھ اپنے ہی گاٶں ميں بٹہایا۔

مصلحِ امت سيد يارمحمد شاه بخاری ثانی اپنے کچھ گھروں کے ساتھ گاٶں ڈرب چانڈیہ خان میں رہاٸش کی اور دين کی تبلیغ ميں مصروف ہوگٸے۔ سندھ میں اس وقت انگریزوں کا دٶر تہا۔

مصلحِ امت سيد يار محمد شاه بخاری ثانی کو دو فرزند (سيد وزير محمد شاه بخاری، سيد گل محمد شاه بخاری اول) اور اور صاحبزاديوں کی اولاد ہوٸی۔ جن ميں سے سید گل محمد شاہ بخاری اول نوجوانی کی عمر مبارکہ میں ہی حج کرنے کے ارادہ سے سفرِ حرمين شريفين کیلیے روانہ ہوۓ۔ حج ادا کرنے کے بعد مدینة المنورہ سے تعلیم بہی حاصل کی اور وطن واپس آنے کے بعد آپ دو بار افغانستان کو ہجرت بہی کی۔

ايک بار افغانستان (یا کسی ریاست) کے والی امیر امان اللّٰه خان نے آپکو شرعی قاضی (جج) مقرر کر رکہا۔

مصلح امت سيد يار محمد شاه بخاری ثانی نے اپنے ھونہار فرزند کی شادی، بھاگ ناڑی کے سادات عظام کے پگدار سید حسن علی شاہ (بخشاپور ضلع کشمور) کی صاحبزادی سے کرواٸی جو نہایت ہی پرہیزگار بیبی تہیں۔

(بحوالہ امام العاشقین رسالو حصہ پہلا سندہی۔)

اردو ترجمہ : درِ حُسين کا ادنیٰ خادم : امام بخش گل حسن ٹاٹڑی حُسينی۔

  • Newer

    شيخ الاسلام قمبر شريف والے بابا سائیں رح آپ کا خاندان مبارک

  • Older

    شيخ الاسلام قمبر شريف والے بابا سائیں رح آپ کا خاندان مبارک

Post a Comment

0Comments

Post a Comment (0)